کُتّوں کی دُعا پاک سر زمین شاد باد پاکستانی قومی ترانے اور ’’شاہنامہ اسلام‘‘ جیسی مشہور و معروف کتاب کے خالق ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم اپنی آپ بیتی بیان فرماتے ہیں کہ میری عمر بارہ سال تھی ۔میرا لحن داؤدی بتایا جاتا اور نعت خوانی کی محفلوں میں بلایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں شعر و شاعری کے مرض نے بھی مجھے آلیا تھا۔ اس لئے اسکول سے بھاگنے اورگھر سے اکثر غیر حاضر رہنے کی عادت بھی پڑ چکی تھی ۔ میری منگنی لاہور میں میرے رشتے کی ایک خالہ کی دُختر سے ہو چکی تھی۔ میرے خالو نے جب میری آوارگی کی داستان سُنی تو سیر و تفریح کے بہانے محترم نے جالندھر سے مجھے ساتھ لیا اور محض سیر و تفریح کا سبز باغ دکھلانے شہر گجرات کے قریب قصبہ جلال پور جٹاں میں پہنچ گئے ۔ اصل سبب مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ہونے والے خُسر اورفی الحال خالُو میرے متعلق اپنے دینی مرشد سے تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ وہ بزرگ ان کی بیٹی کی شادی مجھ ایسے آوارہ سے کردینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں یہ پُر انوار پیر و مرشد ایک کہنہ سال بزرگ تھے۔ اُن کے اِردگرد مؤدب بیٹھے ہوئے دوسرے شُرفا سے پہلے ہی دن میں نے نعت سنا...
لوگ کہتے ہے مجاہد بننا آسان ہے کبھی ان مجاھد کے گھر والوں سے پوچھیے گا کہ مجاھد کیسے بنتے ہیں کیسے ان کے گھر کے لوگ ان کے جانے بعد زندگی گزار رہے ہوتے ہیں مجاھد کبھی والد کی صورت میں ہوتا ہے تو کبھی عزیز از جان بیٹے کی صورت میں کبھی بہنوں کا لاڈلا بھائی کبھی بھائیوں کا جان سے پیارا بھائی کبھی بیٹیوں کا مشفق سہارا اور کبھی دنیا کی تنہائیوں سے لڑتی اولادوں کو پالتی ہوئی اس عظیم عورت کے سر کا تاج ہوتا ہے جو بھری دنیا میں سب کے ہوتے ہوئے تنہا زندگی گزار رہی ہوتی ہے اس مرد مجاہد کی اولاد کو بیک وقت ماں اور باپ دنوں کا پیار دیتی ہیں جہاں باپ کی ضرورت ہو تو یہ اس مرد مجاھد کی بیوی ایک سائبان کی طرح اپنے بچوں پر سایہ فگن ہوجاتی ہے اسے دنیا کی ہر سرد و گرم سے بچاتی ہے جہاں ماں کی ضرورت ہو تو اپنی تمام تر ممتا اپنے بچوں پر نچھاور کر دیتی ہے ہمیں میدان میں لڑتے ہوئے مجاھد تو نظر آتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ان مجاھدین کی گھر والوں کی کیسی عجیب قربانیاں ہیں کہ اپنے سہا...
Comments
Post a Comment